(۱۰۴۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی الْقَعْنَبِیَّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ بَاعَ سِقَایَۃً مِنْ ذَہَبٍ أَوْ مِنْ وَرِقٍ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِہَا فَقَالَ لَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنْ مِثْلِ ہَذَا إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ۔ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ : مَا أُرَی بِہَذَا بَأْسًا۔ فَقَالَ لَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ : مَنْ یَعْذِرُنِی مِنْ مُعَاوِیَۃَ أُخْبِرُہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَیُخْبِرُنِی عَنْ رَأْیِہِ لاَ أُسَاکِنُکَ بِأَرْضٍ أَنْتَ بِہَا ثُمَّ قَدِمَ أَبُو الدَّرْدَائِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ لَہُ ذَلِکَ فَکَتَبَ عُمَرُ إِلَی مُعَاوِیَۃَ : أَنْ لاَ یَبِیعَ ذَلِکَ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَلَمْ یَذْکُرِ الرَّبِیعُ عَنِ الشَّافِعِیِّ فِی ہَذَا قُدُومَ أَبِی الدَّرْدَائِ عَلَی عُمَرَ وَقَدْ ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ۔
[صحیح۔ اخرجہ المالک ۱۳۰۲]
(١٠٤٩٤) حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان نے سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زائد میں فروخت کیا۔ ابودرداء کہنے لگے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ اس جیسے سے منع فرماتے تھے ماسوائے برابر، برابر، معاویہ کہنے لگے : میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا۔ ابودرداء ان سے کہنے لگے : کون میرا عذر پیش کرے معاویہ کو کہ میں اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خبر دے رہا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سے خبر دے رہے ہیں، میں تجھے اس سر زمین میں نہ رہنے دوں گا جس میں تم ہو۔ پھر ابودرداء حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے اور ان کے سامنے یہ تذکرہ کیا تو حضرت عمر (رض) نے معاویہ (رض) کو خط لکھا کہ آپ اس کو فروخت نہ کریں مگر برابر وزن کے ساتھ، لیکن ربیع نے امام شافعی (رح) سے ابودرداء کا حضرت عمر (رض) کے پاس آنا ذکر نہیں کیا۔