(۱۰۴۹۳) وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ عَنْہُ بِطُولِہِ فِی قِصَّۃِ الصَّائِغِ ثُمَّ قَالَ : ہَذَا خَطَأٌ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ وَرْدَانَ الرُّومِیِّ أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّی رَجُلٌ أَصُوغُ الْحُلِیَّ ثُمَّ أَبِیعُہُ وَأَسْتَفْضِلُ فِیہِ قَدْرَ أُجْرَتِی أَوْ عَمَلَ یَدِی فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ لاَ فَضْلَ بَیْنَہُمَا ہَذَا عَہْدُ صَاحِبِنَا إِلَیْنَا وَعَہْدُنَا إِلَیْکُمْ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ یَعْنِی بِصَاحِبِنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ الأُرَمَوِیُّ أَخْبَرَنَا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلاَمَۃَ حَدَّثَنَا الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(١٠٤٩٣) وردان رومی نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا کہ میں زیورات بناتا ہوں۔ پھر میں اس کو فروخت کرتا ہوں اور اپنی مزدوری یا ہاتھ کا کام اس کی بنا پر کچھ زیادہ لیتا ہوں۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : سونا سونے کے بدلے، اس میں تفاضل نہیں، یہ عہد ہم سے ہمارے صاحب نے لیا اور یہی ہمارا تمہاری طرف عہد ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ صاحب سے مراد حضرت عمر بن خطاب (رض) ہیں۔