hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10512

.

سنن البيهقي

10512
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۵۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَہُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِیدٍ حَدَّثَہُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّہُ أَرْسَلَ غُلاَمَہُ بِصَاعِ قَمْحٍ قَالَ : بِعْ ثُمَّ اشْتَرِ بِہِ شَعِیرًا فَذَہَبَ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِیَادَۃَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَائَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَہُ بِذَلِکَ فَقَالَ لَہُ مَعْمَرٌ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِکَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّہُ وَلاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّی کُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلاً بِمِثْلٍ ۔ وَکَانَ طَعَامُنَا یَوْمَئِذٍ شَعِیرًا۔ قِیلَ فَإِنَّہُ لَیْسَ مِثْلَہُ قَالَ : فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یُضَارِعَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَغَیْرِہِ۔ فَہَذَا الَّذِی کَرِہَہُ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ خَوْفَ الْوُقُوعِ فِی الرِّبَا احْتِیَاطًا مِنْ جِہَتِہِ لاَ رِوَایَۃً وَالرِّوَایَۃُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَامَّۃٌ تَحْتَمِلُ الأَمْرَیْنِ جَمِیعًا أَنْ یَکُونَ أَرَادَ الْجِنْسَ الْوَاحِدَ دُونَ الْجِنْسَیْنِ أَوْ ہُمَا مَعًا فَلَمَّا جَائَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ بِقَطْعِ أَحَدِ الاِحْتِمَالَیْنِ نَصًّا وَجَبَ الْمَصِیرُ إِلَیْہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔[صحیح۔ مسلم ۱۵۹۲]
(١٠٥٠٧) معمر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے غلام کو ایک صاع گندم کا دے کر روانہ کیا کہ جاؤ اس کو فروخت کر کے پھر جَو خرید لینا۔ غلام گیا اس نے ایک صاع اور کچھ زیادہ لے لیا۔ جب معمر آئے تو غلام نے خبر دی۔ معمر کہنے لگے : تو نے ایسا کیوں کیا ؟ جاؤ اس کو واپس کرو صرف برابر، برابر لینا۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ کھانا کھانے کے بدلے برابر، برابرہو اور ان دنوں ہمارا کھانا جَو تھا۔ کہا گیا : یہ اس کی مثل نہیں ہے۔ فرمانے لگے : میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ اس کے مشابہہ نہ ہو۔
اس کو معمر بن عبداللہ نے پسند کیا کہ کہیں وہ سود میں نہ پڑجائیں۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عام روایت ہے، وہ دو احتمالوں کو شامل ہے : 1 صرف ایک جنس ہی مراد ہو۔ 2 یا دونوں اکٹھی ہوں۔
اس لیے عبادہ بن صامت (رض) دو احتمالوں میں سے ایک کو باقی رکھا، اسی کی جانب لوٹا جائے گا۔