hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10524

.

سنن البيهقي

10524
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۵۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَیَّانُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْعَدَوِیُّ أَبُو زُہَیْرٍ قَالَ : سُئِلَ لاَحِقُ بْنُ حُمَیْدٍ أَبُو مِجْلَزٍ وَأَنَا شَاہِدٌ عَنِ الْصَرْفِ فَقَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ یَرَی بِہِ بَأْسًا زَمَانًا مِنْ عُمْرِہِ حَتَّی لَقِیَہُ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ فَقَالَ لَہُ : یَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلاَ تَتَّقِی اللَّہَ حَتَّی مَتَی تُؤْکِلُ النَّاسَ الرِّبَا أَمَا بَلَغَکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ وَہُوَ عِنْدَ زَوْجَتِہِ أُمِّ سَلَمَۃَ : إِنِّی أَشْتَہِی تَمْرَ عَجْوَۃٍ ۔ وَأَنَّہَا بَعَثَتْ بِصَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِیقٍ إِلَی مَنْزِلِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَأُتِیَتْ بَدَلَہُمَا بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَۃٍ فَقَدَّمَتْہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَعْجَبَہُ فَتَنَاوَلَ تَمْرَۃً ثُمَّ أَمْسَکَ فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ لَکُمْ ہَذَا ۔ قَالَتْ : بَعَثْتُ بِصَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِیقٍ إِلَی مَنْزِلِ فُلاَنٍ فَأَتَیْنَا بَدَلَہَا مِنْ ہَذَا الصَّاعِ الْوَاحِدِ فَأَلْقَی التَّمْرَۃَ مِنْ یَدِہِ وَقَالَ : رُدُّوہُ رُدُّوہُ لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَۃُ بِالْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرُ بِالشَّعِیرِ وَالذَّہَبُ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ یَدًا بِیَدٍ مِثْلاً بِمِثْلٍ لَیْسَ فِیہِ زِیَادَۃٌ وَلاَ نُقْصَانُ فَمَنْ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَرْبَی وَکُلُّ مَا یُکَالُ أَوْ یُوزَنُ ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَکَّرْتَنِی یَا أَبَا سَعِیدٍ أَمْرًا نَسِیتُہُ أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ وَکَانَ یَنْہَی بَعْدَ ذَلِکَ أَشَدَّ النَّہْیِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحاکم ۲/ ۴۹]
(١٠٥١٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) صرف میں تفاضل کے قائل تھے وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے تھے، جب وہ ابوسعید خدری (رض) سے ملے تو ابو سعید (رض) کہنے لگے : اے ابن عباس ! کیا آپ اللہ سے نہیں ڈرتے۔ کب تک آپ لوگوں کو سود کھلاؤ گے۔ کیا آپ کو یہ خبر نہیں ملی کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیوی ام سلمہ (رض) کے پاس تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عجوہ کھجور کھانے کو میرا دل چاہتا ہے تو ام سلمہ (رض) نے پرانی کھجوروں کے دو صاع ایک انصاری کے گھر بھیج دے اور اس کے عوض ایک صاع عجوہ کھجور کا ان کو مل گیا۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کی۔ آپ کو بڑی پسند آئیں۔ آپ نے ایک کھجور پکڑی ۔ پھر رک گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہیں یہ کہاں سے ملی ہیں تو ام سلمہ (رض) نے کہا کہ میں نے دو صاع پرانی کھجوریں فلاں کے بھیجی تھیں تو اس کے بدلے یہ ایک صاع آیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ سے کھجور ڈال دی اور فرمایا : تم اس کو واپس کر دو ۔ تم اس کو واپس کر دو ۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کھجور کے بدلے کھجور، گندم کے بدلے گندم۔ جو کے بدلے جَو سونے کے بدلے سونا چاندی کے بدلے چاندی برابر، برابر اور نقد ہونا چاہیے۔ اس میں کمی یا زیادتی درست نہیں ہے، جس نے زیادہ یا کمی کی اس نے سود حاصل کیا۔ ہر وہ چیز جس کا وزن کیا جائے یا ماپی جائے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اے ابو سعید ! آپ نے مجھے ایسا معاملہ یاد کروا دیا جو میں بھول گیا تھا، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔