(۱۰۵۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَیَّانُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ أَبُو زُہَیْرٍ قَالَ سُئِلَ أَبُو مِجْلَزٍ : لاَحِقُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنِ الصَرْفِ وَأَنَا شَاہِدٌ فَقَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولُ زَمَانًا مِنْ عُمْرِہِ : لاَ بَأْسَ بِمَا کَانَ مِنْہُ یَدًا بِیَدٍ وَکَانَ یَقُولُ : إِنَّمَا الرِّبَا فِی النَّسِیئَۃِ حَتَّی لَقِیَہُ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : عَیْنٌ بِعَیْنٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ فَہُوَ رِبًا قَالَ وَکُلُّ مَا یُکَالُ أَوْ یُوزَنُ فَکَذَلِکَ أَیْضًا قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَزَاکَ اللَّہُ یَا أَبَا سَعِیدٍ عَنِّی الْجَنَّۃَ فَإِنَّکَ ذَکَّرْتَنِی أَمْرًا کُنْتُ نَسِیتُہُ أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ وَکَانَ یَنْہَی عَنْہُ بَعْدَ ذَلِکَ أَشَدَّ النَّہْیِ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ہَذَا الْحَدِیثُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی مِجْلَزٍ تَفَرَّدَ بِہِ حَیَّانُ قُلْتُ وَحَیَّانُ تَکَلَّمُوا فِیہِ وَیُقَالُ فِی قَوْلِہِ وَکَذَلِکَ الْمِیزَانُ فِی الْحَدِیثِ الأَوَّلِ أَنَّہُ مِنْ جِہَۃِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَکَذَلِکَ ہَذِہِ اللَّفْظَۃُ إِنْ صَحَّتْ وَیُسْتَدَلُّ عَلَیْہِ بِرِوَایَۃِ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فِی احْتِجَاجِہِ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ بِقِصَّۃِ التَّمْرِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرْبَیْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِکَ فَبِعْ تَمْرَکَ بِسِلْعَۃٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِکَ أَیَّ تَمْرٍ شِئْتَ ۔ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ یَکْونَ رِبًا أَمِ الْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ فَکَانَ ہَذَا قِیَاسًا مِنْ أَبِی سَعِیدٍ لِلْفِضَّۃِ عَلَی التَّمْرِ الَّذِی رُوِیَ فِیہِ قِصَّۃٌ إِلاَّ أَنَّ بَعْضَ الرُّوَاۃِ رَوَاہُ مُفَسَّرًا مَفْصُولاً وَبَعْضُہُمْ رَوَاہُ مُجْمَلاً مَوْصُولاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ انظر قبلہ]
(١٠٥٢٠) حیان بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ ابومجلز سے صرف تبادلہ رقم کے متعلق سوال کیا گیا اور میں بھی موجود تھا تو ابومجلز لاحق بن حمید نے کہا کہ ابن عباس (رض) اپنی عمر کے ایک عرصہ میں کہا کرتے تھے، جب نقدی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے، وہ فرماتے تھے کہ سود تو ادھار میں ہے، یہاں تک کہ ابو سعید خدری ملے تو انھوں نے اس طرح حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں کہ جنس جنس کے بدلے برابر ہونی چاہیے۔ جس نے زیادتی کی وہ سود ہے اور ہر چیز جو تولی جائے یا ماپی جائے وہ بھی اسی طرح ہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : اے ابوسعید ! اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ میری طرف سے جنت دے۔ آپ نے مجھے بھولا ہوا کام یاد کروا دیا ہے۔ میں اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔