(۱۰۵۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ بَعِیرٍ بِبَعِیرَیْنِ فَقَالَ : قَدْ یَکُونُ الْبَعِیرُ خَیْرًا مِنَ الْبَعِیرَیْنِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ : أَنَّہُ اشْتَرَی بَعِیرًا بِبَعِیرَیْنِ فَأَعْطَاہُ أَحَدُہُمَا وَقَالَ : آتِیکَ بِالآخَرِ غَدًا رَہْوًا إِنَّ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۱۴۱۴۰۲]
(١٠٥٢٤) ابن عباس (رض) سے ایک اونٹ کو دو کے عوض خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ فرماتے ہیں کہ کبھی ایک اونٹ دو اونٹوں سے بہتر ہوتا ہے۔
(ب) رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ اس نے ایک اونٹ دو کے عوضخریدا ۔ اس نے ایک تودے دیا اور کہا : دوسرا کل صبح آرام سکون سے لا کر دوں گا۔