(۱۰۵۸۱) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ َخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ہُوَ ابْنُ عَطَائٍ َخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُہَا لِرَبِّہَا الأَوَّلِ إِلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ۔قَالَ : وَقَضَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَمْلُوکًا لَہُ مَالٌ فَمَالُہُ لِرَبِّہِ الأَوَّلِ إِلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔ وَرَوَاہُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی النَّخْلِ وَالْعَبْدِ جَمِیعًا وَذَلِکَ یَرِدُ فِی مَوْضِعِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
(١٠٥٨١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کھجور کی گا جھ پر نر کی پیوندکاری کی پھر اس نے اپنا باغ ہی فروخت کردیا تو اس کا پھل پہلے مالک کا ہے۔ مگر خریدنے والا شرط لگالے۔
(ب) حضرت عمر بن خطاب (رض) کا فیصلہ ہے کہ جس نے اپنے غلام کو فروخت کردیا اور غلام کے پاس مال تھا یہ مال پہلے مالک کا ہوگا مگر یہ کہ خریدنے والا شرط لگالے۔
(ج) سالم بن عبداللہ اپنے والد سے کھجور اور غلام دونوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں۔