(۱۰۵۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِیِّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ ثَمَرَۃِ النَّخْلِ حَتَّی تَزْہُوَ۔قُلْنَا لأَنَسٍ: مَا زَہْوُہُ؟ قَالَ : یَحْمَرُّ قَالَ أَرَأَیْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّہُ الثَّمَرَۃَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِیکَ؟[صحیح۔ بخاری ۲۰۹۴]
(١٠٥٩٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے، ہم نے حضرت انس (رض) سے کہا : اس کا پکنا کیا ہوتا ہے ؟ فرماتے ہیں کہ وہ سرخ ہوجائے، فرمایا : جب اللہ پھل کو روک لے ۔ پھر تیرے بھائی کا مال تیرے لیے کیسے جائز ہوگا۔