(۱۰۶۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ : وَہْبُ اللَّہِ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ یُونُسَ قَالَ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَکَانَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَ یَقُولُ : کَانَ النَّاسُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَتَبَایَعُونَ الثِّمَارَ فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِیہِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ : إِنَّہُ أَصَابَ الثَّمَرَ الْعَفَنُ الدَّمَانُ أَصَابَہُ مُرَاقٌ أَصَابَہُ قُشَامٌ عَاہَاتٌ یَحْتَجُّونَ بِہَا۔ وَالْقُشَامُ شَیْء ٌ یُصِیبُہُ حَتَّی لاَ یُرْطِبَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا کَثُرَتْ عِنْدَہُ الْخُصُومَۃُ فِی ذَلِکَ : فَإِمَّا فَلاَ تُبَایِعُوا حَتَّی یَبْدُوَ صَلاَحُ الثَّمَرِ ۔ کَالْمَشُورَۃِ یُشِیرُ بِہَا لِکَثْرَۃِ خُصُومَتِہِمْ۔ قَالَ وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَأَخْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدٍ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ یَکُنْ یَبِیعُ ثِمَارَ أَمْوَالِہِ حَتَّی تَطْلُعَ الثُّرَیَّا فَیُتَبَیَّنُ الأَحْمَرُ مِنَ الأَصْفَرِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ اللَّیْثُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ فَذَکَرَہُ وَقَالَ مُرَاضٌ بَدَلَ مُرَاقٌ۔
قَالَ الأَصْمَعِیُّ : الدُّمَانُ أَنْ تَنْشَقَّ النَّخْلَۃُ أَوَّلَ مَا یَبْدُو قَلْبُہَا عَنْ عَفَنٍ وَسَوَادٍ قَالَ وَالْقُشَامُ : أَنْ یَنْتَقِصَ ثَمَرُ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ یَصِیرَ بَلَحًا۔ وَالْمُرَاضُ : اسْمٌ لأَنْوَاعِ الأَمْرَاضِ۔ [حسن۔ اخرجہ البخاری ۲۰۸۷]
(١٠٦٠٥) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں پھلوں کی بیع کرتے تھے، جب لوگ پھل توڑتے اور تقاضے کا وقت آتا تو پھر خریدنے والا یہ کہہ دیتا کہ پھلوں کو (اعض الرمان یعنی پھل بننے سے پہلے کی بیماری) لگ گئی تھی۔ اس کو مختلف قسم کی بیماریاں لگ گئی تھیں۔ (قشام) ایسی بیماری جو کھجور کے پھل کو پکنے سے پہلے لگ جائے۔ اس طرح کے حیلہ و حجت کرتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب جھگڑے زیادہ ہوگئے تو فرمایا : پھلوں کو فروخت نہ کرو جب تک ان میں پکنے کے آثار واضح نہ ہوجائیں، گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو مشورہ دے رہے تھے۔ ان کے زیادہ جھگڑے ہونے کی وجہ سے۔
(ب) خارجہ بن زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت اپنے مالوں کے پھل فروخت نہ کرتے تھے جب تک ثریا ستارہ طلوع نہ ہوجاتا تاکہ سرخی زردی سے واضح ہوجائے۔ ابو زناد نے مراض کے الفاظ ذکر کیے ہیں، ” واق “ کے بدلے۔
اصمعی فرماتے ہیں : الرمان کھجور کا پھٹ جانا اس کے گا جھ سے ظاہر ہونے سے پہلے۔
القشام : کھجور کا پھل پکنے سے پہلے گرجائے۔ ” مراض “ مختلف قسم کی بیماریاں۔