(۱۰۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ الْمُعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ حَتَّی تُزْہِیَ فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا تُزْہِی؟ قَالَ : حِینَ تَحْمَرُّ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرَأَیْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّہُ الثَّمَرَۃَ فَبِمَ یَأْخُذُ أَحَدُکُمْ مَالَ أَخِیہِ؟ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ معنی قریبا]
(١٠٦٢٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا، کہا گیا : اس کا پکنا کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب وہ سرخ ہوجائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ کا کیا خیال ہے جب اللہ پھل روک لے پھر تم اپنے بھائی کا مال کیوں مباح خیال کرتے ہو۔