(۱۰۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّہُ أَقْبَلَ مِنَ الْجُرْفِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالْمِرْبَدِ تَیَمَّمَ فَمَسَحَ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ وَصَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِینَۃِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ فَلَمْ یُعِدِ الصَّلاَۃَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالْجُرْفُ قَرِیبٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ رُوِیَ مُسْنَدًا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ۔ [حسن۔ أخرجہ الشافعی فی الام ۱/۴۶]
(١٠٦٤) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ جرف سے مربد جگہ آئے، تیمم کیا تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا اور عصر کی نماز پڑھی، پھر مدینہ میں داخل ہوئے اور سورج بلند تھا۔ انھوں نے نماز دوبارہ نہیں پڑھی۔