hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1062

.

سنن البيهقي

1062
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْبَیْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَیْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِی ، فَأَقَامَ النَّبِیُّ -ﷺ -عَلَی الْتِمَاسِہِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ ، فَأَتَی النَّاسُ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ فَقَالُوا : أَلاَّ تَرَی إِلَی مَا صَنَعَتْ عَائِشَۃُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَبِالنَّاسِ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -قَدْ نَامَ عَلَی فَخِذِی فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَالنَّاسَ وَلَیْسُوا عَلَی مَائٍ، وَلَیْسَ مَعَہُمْ مَائٌ، فَعَاتَبَنِی وَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ، وَجَعَلَ یَطْعُنُ بِیَدِہِ فِی خَاصِرَتِی، فَلاَ یَمْنَعُنِی مِنَ التَّحَرُّکِ إِلاَّ مَکَانُ رَسُولِ اللَّہِ-ﷺ- عَلَی فَخِذِی فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی أَصْبَحَ عَلَی غَیْرِ مَائٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی آیَۃَ التَّیَمُّمِ {فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا} فَقَالَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ : مَا ہِیَ أَوَّلَ بَرَکَتِکُمْ یَا آلَ أَبِی بَکْرٍ۔ قَالَتْ : فَبَعَثْنَا الْبَعِیرَ الَّذِی کُنْتُ عَلَیْہِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح]
(١٠٦٣) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلیں، یہاں تک کہ ہم بیداء یا ذات الجیش جگہ پر تھے، میرا ہار گم ہوگیا۔ اس کی تلاش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام کیا اور لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ٹھہرے اور وہ پانی (والی جگہ) پر نہیں تھے اور نہ ان کے پاس پانی تھا۔ لوگ سیدنا ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : کیا آپ نہیں دیکھتے کہ عائشہ (رض) نے کیا کیا ؟ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور لوگوں کو ٹھہرا دیا اور وہ پانی (والی جگہ) پر نہیں ہیں اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ ابوبکرصدیق (رض) آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری ران پر اپنا سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا : تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں کو روک دیا ہے اور وہ پانی پر نہیں ہیں اور ان کے پاس بھی پانی نہیں۔ فرماتی ہیں : ابوبکر صدیق (رض) نے مجھے ڈانٹا جو اللہ نے چاہا کہا اور میری کھوکھ میں اپنے ہاتھ سے چوکا مارتے تھے، پھر بھی میں حرکت نہ کرتی تھی کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے یہاں تک کہ انھوں نے بغیر پانی کے صبح کی، اللہ نے تیمم کی آیت نازل کردی : { فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا } اسیدبن حضیر (رض) جو نقیبوں میں سے تھے ، فرمانے لگے : اے آل ابوبکر ! یہ تمہاری (وجہ سے) پہلی برکت نہیں ہے۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم نے اونٹ کو اٹھایا جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے ، ہم نے ہار اس کے نیچے سے پایا۔