(۱۰۶۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی الرِّجَالِ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّہٌ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ سَمِعَہَا تَقُولُ : ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِی زَمَانِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَعَالَجَہُ وَقَامَ فِیہِ حَتَّی تَبَیَّنَ لَہُ النُّقْصَانُ فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ یَضَعَ عَنْہُ أَوْ أَنْ یُقِیلَہُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ یَفْعَلَ فَذَہَبَتْ أَمُّ الْمْشْتَرِی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَأَلَّی أَنْ لاَ یَفْعَلَ خَیْرًا ۔ فَسَمِعَ بِذَلِکَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ہُوَ لَہُ۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ أَوْ أَنْ یُقِیلَہُ وَقَالَ فَعَالَجَہُ وَأَقَامَ عَلَیْہِ۔
زَادَنِی أَبُو سَعِیدٍ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ قَالَ : حَدِیثُ عَمْرَۃَ مُرْسَلٌ وَأَہْلُ الْحَدِیثِ وَنَحْنُ لاَ نُثْبِتُ الْمُرْسَلَ فَلَو ثَبَتَ حَدِیثُ عَمْرَۃَ کَانَتْ فِیہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنْ لاَ تُوضَعَ الْجَائِحَۃُ لِقَوْلِہَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : تَأَلَّی أَنْ لاَ یَفْعَلَ خَیْرًا ۔ وَلَو کَانَ الْحُکْمُ عَلَیْہِ أَنْ یَضَعَ الْجَائِحَۃَ لَکَانَ أَشْبَہَ أَنْ یَقُولَ ذَلِکَ لاَزِمٌ لَہُ حَلَفَ أَوْ لَمْ یَحْلِفْ۔
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ أَسْنَدَہُ حَارِثَۃُ بْنُ أَبِی الرِّجَالِ فَرَوَاہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا إِلاَّ أَنَّ حَارِثَۃَ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ۔
وَأَسْنَدَہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی الرِّجَالِ إِلاَّ أَنَّہُ مُخْتَصَرٌ لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الثَّمَرِ۔[ضعیف۔ اخرجہ مالک ۱۲۸۶]
(١٠٦٢٥) عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک آدمی نے باغ کا پھل خریدا۔ اس نے اس میں کام کیا، لیکن پھر بھی نقصان ہوگیا۔ اس نے باغ کے مالک سے کہا کہ وہ قیمت کم کرے یا سودا فسخ کر دے۔ اس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایسا نہ کرے گا تو خریدار کی والدہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جا کر تذکرہ کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس نے بھلائی نہ کرنے کی قسم کھائی ہے، یہ بات باغ کے مالک نے سن لی وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : یہ اس کے لیے ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) کی روایت میں ہے کہ وہ سودا توڑ دے اور فرمایا : اس پر وہ ہمیشہ کام کاج کرتا رہا۔
(ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ عمرہ بنت عبدالرحمن کی حدیث مرسل ہے ، محدثین اور ہم مرسل حدیث کو ثابت نہیں مانتے۔ اگر عمرۃ کی حدیث ثابت ہو تو گویا کہ قیمت کو کم نہ کیا جائے گا۔ اگر یہ بات اس پر ثابت ہو کہ وہ قیمت کو کم کرے تو یہ اس کے مشابہہ ہے کہ قسم اٹھائے نہ اٹھائے قیمت کم کرنا لازم ہے۔