(۱۰۶۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ حَکِیمَ بْنَ حِزَامٍ ابْتَاعَ طَعَامًا أَمَرَ بِہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ فَبَاعَ حَکِیمٌ الطَّعَامَ قَبْلَ أَنْ یَسْتَوْفِیَہُ فَسَمِعَ بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَدَّہُ عَلَیْہِ وَقَالَ : لاَ تَبِعْ طَعَامًا ابْتَعْتَہُ حَتَّی تَسْتَوْفِیَہُ۔ فَحَکِیمٌ کَانَ قَدِ اشْتَرَاہُ مِنْ صَاحِبِہِ فَنَہَاہُ عَنْ بَیْعِہِ حَتَّی یَسْتَوْفِیَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۱۳]
(١٠٦٩٤) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حکیم بن حزام نے اناج خریدا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کا حکم لوگوں کو دیا۔ حضرت حکیم بن حزام نے اناج قبضہ میں لینے سے پہلے فروخت کردیا۔ یہ بات حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سن لی تو اس پر واپس کردیا اور فرمایا : اناج فروخت نہ کر جو آپ نے خریدا ہے جب تک قبضہ میں نہ لے لو۔ حکیم بن حزام نے اپنے ساتھی سے خریدا تو قبضہ میں لینے سے پہلے اس کو فروخت کرنے سے منع کردیا۔