(۱۰۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَسَدِہِ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یَغْسِلْہَا فُعِلَ بِہَا مِنَ النَّارِ کَذَا وَکَذَا))۔ قَالَ عَلِیٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ شَعَرِی۔
فَہَذَا الْحَدِیثُ وَمَا وَرَدَ فِی مَعْنَاہُ یُوجِبُ غَسْلَ الصَّحِیحِ مِنْہُ ، وَالْکِتَابُ یُوجِبُ التَّیَمُّمَ لِمَا لاَ یُقْدَرُ عَلَی غَسْلِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقِ۔
وَظَاہِرُ الْکِتَابِ یَدُلُّ عَلَی اسْتِعْمَالِ مَا یَجِدُ مِنَ الْمَائِ ، ثُمَّ الرُّجُوعِ إِلَی التَّیَمُّمِ إِذَا لَمْ یَجِدْہُ ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ وَیُذْکَرُ عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ أَنَّہُ قَالَ : یَتَوَضَّأُ وَیَتَیَمَّمُ فِی الْجُنُبِ لاَ یَجِدُ مِنَ الْمَائِ إِلاَّ قَدْرَ مَا یُتَوَضَّأُ بِہِ ، وَکَذَا قَالَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَکَانَ الْحَسَنُ وَالزُّہْرِیُّ یَقُولاَنِ یَتَیَمَّمُ فَقَطْ۔ [ضعیف]
(١٠٧٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے اپنے جسم سے جنابت کی حالت میں ایک بال کے برابر جگہ چھوڑ دی اور اس کو نہ دھویا تو اس کے ساتھ آگ سے اس طرح اس طرح کیا جائے گا۔ علی (رض) فرماتے ہیں : اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کرلی ہے۔ “
(ب) یہ حدیث اور اس کے ہم معنی احادیث میں غسل کے وجوب کا حکم ہے جبکہ کتاب اللہ میں غسل کی قدرت نہ رکھنے والے کے لیے تیمم کا حکم ہے۔ کتاب اللہ کے ظاہر سے استدلال ہے کہ جب پانی نہ ملے تو تیمم کرلے۔
(ج) ابن ابی لبابہ فرماتے ہیں کہ وضو کرے گا اور تیمم کرے گا جب حالت جنابت میں پانی نہ ملے مگر اتنی مقدار میں جس سے وضو ہو سکے۔ معمر بن راشد کا بھی یہی مؤقف ہے۔ امام حسن اور زہری فرماتے ہیں : صرف تیمم کرے گا۔