(۱۰۷۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ ہُوَ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : عُہْدَۃُ الرَّقِیقِ ثَلاَثُ لَیَالٍ ۔
قَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ قَالَ سَعِیدٌ فَقُلْتُ لِقَتَادَۃَ : کَیْفَ یَکُونُ ہَذَا؟ قَالَ : إِذَا وَجَدَ الْمُشْتَرِی عَیْبًا بِالسِّلْعَۃِ فَإِنَّہُ یَرُدَّہَا فِی تِلْکَ الثَّلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَلاَ یُسْأَلُ الْبَیِّنَۃَ وَإِذَا مَضَتِ الثَّلاَثَۃُ أَیَّامٍ فَلَیْسَ لَہُ أَنْ یَرُدَّہَا إِلاَّ بِبَیِّنَۃٍ أَنَّہُ اشْتَرَاہَا وَذَلِکَ الْعَیْبُ بِہَا وَإِلاَّ فَیَمِینُ الْبَائِعِ أَنَّہُ لَمْ یَبِعْہُ بِدَائٍ ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی وَأَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ قَتَادَۃَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۳۵۵۶]
(١٠٧٥٢) عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام کے عیب کی ضمانت تین راتوں تک ہے۔
سعید کہتے ہیں : میں نے قتادہ سے کہا : یہ کیسے ؟ فرماتے ہیں : جب خریدار سامان میں عیب پائے اور وہ ان تین ایام میں واپس کر دے تو دلیل کا بھی سوال نہ ہوگا۔ لیکن تین دن گزر جانے کے بعد دلیل مانگی جائے گی کہ اس سے خریدا اور اس وقت عیب موجود تھا وگرنہ فروخت کرنے والا قسم اٹھائے گا کہ فروخت کے وقت اس میں یہ بیماری نہ تھی۔