(۱۰۷۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ حَمْدَانَ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ وَغَیْرُہُمْ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ أَبِی الْمُسَاوِرِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ وَکَانَ مَمْلُوکًا لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ : مَا مَالُکَ یَا عُمَیْرُ فَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَعْتِقَکَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا فَمَالُہُ لِلَّذِی أَعْتَقَ ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ ذَلِکَ لِعُمَیْرِ وَہُوَ وَإِنْ کَانَ مُرْسَلاً فَفِیہِ قُوَّۃٌ لِرِوَایَۃِ عَبْدِ الأَعْلَی۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی خَالِدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَعْتَقَ أَبَاہُ عُمَیْرًا ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّ مَالَکَ لِی ثُمَّ تَرَکَہُ۔ [صحیح]
(١٠٧٧٣) عمران بن عمیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) کا غلام تھا تو عبداللہ نے اس کو کہا : اے عمیر ! کیا تیرا مال ہے، میں تجھے آزاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے غلام آزاد کیا تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔
(ب) عمران بن عمیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس کے والد عمیر کو آزاد کیا۔ پھر فرمایا کہ تیرا مال میرا ہے۔ پھر اس کو چھوڑ دیا۔