(۱۰۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنِی عَبَّادُ بْنُ لَیْثٍ صَاحِبُ الْکَرَابِیسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ یَعْنِی أَبَا وَہْبٍ عَنِ الْعَدَّائِ بْنِ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ قَالَ : أَلاَ أُقْرِئُکَ کِتَابًا کَتَبَہُ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْرَجَ کِتَابًا فَإِذَا فِیہِ : ہَذَا مَا اشْتَرَی الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ اشْتَرَی مِنْہُ عَبْدًا أَوْ أَمَۃً عَبَّادٌ یَشُکُّ لاَ دَائَ لَہُ وَلاَ غَائِلَۃَ وَلاَ خِبْثَۃَ بَیْعُ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ ۔
قَالَ الشَّیْخُ ہَذَا الْحَدِیثُ یُعْرَفُ بِعَبَّادِ بْنِ اللَّیْثِ۔
وَقَدْ کَتَبْنَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ غَیْرِ مُعْتَمَدٍ۔ [حسن لغیرہ۔ اخرجہ الترمذی ۱۲۱۶]
(١٠٧٨٢) عداء بن خالد بن ہوذہ فرماتے ہیں : کیا میں تمہیں خط پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے لکھا، اس نے خط نکالا اس میں تھا کہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو خریدا، غلام یا لونڈی ۔ عباد کو شک ہے کہ اس میں کوئی بیماری، دھوکا اور نقص نہیں ہے، یہ مسلمان کی بیع مسلمان کے ساتھ ہے۔