(۱۰۷۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فِہْرٍ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ رَشِیقٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَعِیدٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا قَعْنَبُ بْنُ مُحَرَّرٍ حَدَّثَنَا الأَصْمَعِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ قَالَ قَالَ الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ : أَلاَ أُقْرِئُکُمْ کِتَابًا کَتَبَہُ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْنَا : بَلَی فَإِذَا فِیہِ مَکْتُوبٌ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا مَا اشْتَرَی الْعَدَّائُ بْنُ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ اشْتَرَی مِنْہُ عَبْدًا أَوْ أَمَۃً شَکَّ عُثْمَانُ بِیَاعَۃُ أَوْ بَیْعُ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ لاَ دَائَ وَلاَ غَائِلَۃَ وَلاَ خِبْثَۃَ۔
[حسن۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۵]
(١٠٧٨٣) عداء بن خالد بن ہوذہ فرماتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے خط نہ پڑھوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے لکھا۔ ہم نے کہا : کیوں نہیں۔ اس میں تحریر تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خریدا۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غلام یا لونڈی خریدی۔ عثمان کو شک ہے، یہ مسلمان کی بیع مسلمان کے ساتھ ہے، اس میں کوئی بیماری، دھوکا اور نقص نہیں ہے اور حرام و ممنوع بھی نہیں۔