hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10806

.

سنن البيهقي

10806
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۸۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : قَدْ تَکُونَ عَائِشَۃُ لَوْ کَانَ ہَذَا ثَابِتًا عَنْہَا عَابَتْ عَلَیْہَا بَیْعًا إِلَی الْعَطَائِ لأَنَّہُ أَجَلٌ غَیْرُ مَعْلُومٍ وَہَذَا مَا لاَ نُجِیزُہُ لاَ أَنَّہَا عَابَتْ عَلَیْہَا مَا اشْتَرَتْ بِنَقْدٍ وَقَدْ بَاعَتْہُ إِلَی أَجْلٍ وَلَوِ اخْتَلَفَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی شَیْئٍ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : فِیہِ شَیْئًا وَقَالَ غَیْرُہُ خِلاَفَہُ کَانَ أَصْلُ مَا نَذْہَبُ إِلَیْہِ أَنَّا نَأْخُذُ بِقَوْلِ الَّذِی مَعَہُ الْقِیَاسُ وَالَّذِی مَعَہُ الْقِیَاسُ قَوْلُ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ وَجُمْلَۃُ ہَذَا أَنَّا لاَ نُثْبِتُ مِثْلَہُ عَلَی عَائِشَۃَ مَعَ أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ لاَ یَبِیعُ إِلاَّ مَا یَرَاہُ حَلاَلاً وَلاَ یَبْتَاعُ إِلاَّ مِثْلَہُ وَلَوْ أَنَّ رَجُلاً بَاعَ شَیْئًا أَوِ ابْتَاعَہُ نُرَاہُ نَحْنُ مُحَرَّمًا وَہُوَ یَرَاہُ حَلاَلاً لَمْ نَزْعُمْ أَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُحْبِطُ بِہِ مِنْ عَمَلِہِ شَیْئًا۔
(١٠٨٠١) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر یہ حضرت عائشہ (رض) سے ثابت ہوتا تو وہ اس بیع پر ضرور عیب لگاتی، کیونکہ اس کا تو وقت ہی معلوم نہیں۔ اس کو ہم جائز خیال نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے نقد خریدنے پر انھوں نے عیب لگایا ہے تو اس نے مدت متعین کے لیے فروخت کیا تھا۔ لیکن صحابہ کے درمیان بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ ہم اس کی بات لیں گے جس کے ساتھ قیاس بھی ہو تو وہ زید بن ارقم ہیں، ہم حضرت عائشہ (رض) کے خلاف کسی چیز کو ثابت تو نہیں کرتے لیکن زید بن ارقم حلال خیال کرتے ہوئے ہی خریدتے اور فروخت کرتے تھے، لیکن ان کے خیال میں حلال تھا تو ان کے اعمال باطل نہ ہوں گے ہمارے حرام سمجھنے کی بنا پر۔ [صحیح۔ ذکرہ الشافعی فی الام : ٣/ ٩٥)