(۱۰۸۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لَوْ یُعْطَی النَّاسُ بِدَعْوَاہُمْ لاَدَّعَی نَاسٌ دِمَائَ قَوْمٍ وَأَمْوَالَہُمْ وَلَکِنَّ الْیَمِینَ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِذَا تَبَایَعَ رَجُلاَنِ عَبْدًا فَقَالَ الْبَائِعُ بِعْتُکَہُ بِأَلْفٍ وَقَالَ الْمُبْتَاعُ بِخَمْسِمِائَۃٍ فَکُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مُدَّعٍ وَمُدَّعَی عَلَیْہِ الْبَائِعُ یَدَّعِی فَضْلَ الثَّمَنِ وَالْمُشْتَرِی یَدَّعِی السِّلْعَۃَ بِأَقَلَّ مِنَ الثَّمَنِ فَیَتَحَالَفَانِ وَیُبْدَأُ بِیَمِینِ الْبَائِعِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۲۷۷]
(١٠٨٠٣) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر لوگوں کو دعوؤں کی بنیاد پر دیا جائے تو لوگ اپنی قوم کے خونوں اور مالوں کے دعوے کردیں، لیکن جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا، قسم اس کے ذمہ ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جب دو آدمی ایک غلام کی بیع کریں تو فروخت کرنے والا کہتا ہے : میں نے ایک ہزار درہم میں فروخت کیا ہے اور خریدنے والا کہتا ہے۔ ٥٠٠ درہم میں، فروخت کرنے والا زیادہ قیمت کا دعوے دار ہے جبکہ خریدنے والا کم قیمت کا دعویٰ دار ہے۔ دونوں سے قسم لی جائے گی لیکن ابتدا میں فروخت کرنے والے سے کی جائے گی۔