(۱۰۸۱۵) أَخْبَرَنَا الشَّیْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الثَّقَفِیِّ : أَنَّہُ اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ سِلْعَۃً فَنَقَدَہُ بَعْضَ الثَّمَنِ وَبَقِیَ بَعْضٌ فَقَالَ : ادْفَعْہَا إِلَیَّ فَأَبَی الْبَائِعُ فَانْطَلَقَ الْمُشْتَرِی وَتَعَجَّلَ لَہُ بَقِیَّۃَ الثَّمَنِ فَدَفَعَہُ إِلَیْہِ فَقَالَ : ادْخُلْ وَاقْبِضْ سِلْعَتَکَ فَوَجَدَہَا مَیِّتَۃً فَقَالَ لَہُ : رُدَّ عَلَیَّ مَالِی فَأَبَی فَاخْتَصَمَا إِلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ شُرَیْحٌ : رُدَّ عَلَی الرَّجُلِ مَالَہُ وَارْجِعْ إِلَی جِیفَتِکَ فَادْفِنْہَا۔[صحیح۔ اخرجہ ابن الجعد ۲۴۸۱]
(١٠٨١٥) محمد بن عبیداللہ ثقفی نے ایک آدمی سے سامان خریدا۔ کچھ قیمت نقد دی اور کچھ باقی تھی۔ اس نے کہا : سامان دو تو فروخت کرنے والے نے انکار کردیا تو خریدار نے جلدی باقی قیمت لا کر دے دی۔ اس نے کہا : آؤ اپنا سامان قبضہ میں کرو۔ اس نے اس کو مردہ پایا، اس نے کہا : میرا مال واپس کرو۔ اس نے انکار کردیا، دونوں جھگڑا لے کر قاضی شریح کے پاس آئے تو قاضی شریح نے کہا : اس کا مال واپس کر اور اپنے مردار کو جا کر دفن کر۔