(۱۰۸۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفَقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : إِذَا تَبَایَعَ الرَّجُلاَنِ بِالْبَیْعِ وَاخْتَلَفَا فِی الثَّمَنِ احْتَلَفَا جَمِیعًا فَأَیُّہُمَا نَکَلَ لَزِمَہُ الْقَضَائُ فَإِنْ حَلَفَا جَمِیعًا کَانَ الْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَخُیِّرَ الْمُبْتَاعُ إِنْ شَائَ أَخَذَ بِذَلِکَ الثَّمَنِ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ۔
وَرُوِّینَا عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ قَالَ : فَإِنْ نَکَلاَ عَنِ الْیَمِینِ تَرَادَّا الْبَیْعَ۔ [ضعیف]
(١٠٨١٤) ابوالزناد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ کے فقہاء کہتے ہیں : جب دو آدمی بیع کریں اور قیمت میں اختلاف ہوجائے تو دونوں سے قسم طلب کی جائے گی۔ دونوں سے جو رک گیا فیصلہ اس کے خلاف ہوجائے گا۔ اگر دونوں نے قسم اٹھائی تو فروخت کرنے والے کی بات معتبر ہوگی اور خریدار کو اختیار دیا جائے گا اگر چاہے تو لے لے اس قیمت میں، وگرنہ واپس کر دے۔
(ب) اگر دونوں ہی قسم سے رک جائیں تو بیع کو ختم کردیا جائے گا۔