(۱۰۸۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ جَوَّابٍ التَّیْمِیِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : إِنَّ لِی جَارًا وَلاَ أَعْلَمُ لَہُ شَیْئًا إِلاَّ خَبَیثًا أَوْ حَرَامًا وَإِنَّہُ یَدْعُونِی فَأُحْرَجُ أَنْ آتِیَہُ وَأَتَحَرَّجُ أَنْ لاَ آتِیَہُ فَقَالَ : ائْتِہِ أَوْ أَجِبْہُ فَإِنَّمَا وِزْرُہُ عَلَیْہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : جَوَّابُ التَّیْمِیُّ غَیْرُ قَوِیٍّ۔
وَہَذَا إِذَا لَمْ یَعْلَمْ أَنَّ الَّذِی قُدَّمَ إِلَیْہِ حَرَامٌ فَإِذَا عَلِمَ حَرَامًا لَمْ یَأْکُلْہُ کَمَا لَمْ یَأْکُلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الشَّاۃِ الَّتِی قُدِّمَتْ إِلَیْہِ۔ [حسن]
(١٠٨٢٤) حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا کہ میرا ایک ہمسایہ ہے مجھے تو اس کی کمائی حرام یا خبیث کا علم ہی ہے، وہ مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں اس کے پاس کھانا کھاؤں لیکن میں ممنوع خیال کرتا ہوں اس کے پاس آنے کو اور میں پریشانی سے بچنا چاہتا ہوں کہ میں نہ آؤں۔ اس نے کہا : تم اس کی دعوت قبول کرو۔ اس کا گناہ اس پر ہے۔
نوٹ : یہ اس وقت ہے جب اس کو معلوم نہ ہو کہ اس کو حرام پیش کیا گیا ہے لیکن جب معلوم ہو کہ حرام ہے پھر نہ کھائے جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بکری کو کھانے سے انکار کردیا تھا۔