(۱۰۸۲۵) فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی جَنَازَۃٍ فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَلَی الْقَبْرِ یُوصِی الْحَافِرَ : أَوْسَعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَیْہِ أَوْسَعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِہِ۔ فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَہُ دَاعِی امْرَأَۃٍ فَجَائَ وَجِیئَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ یَدَہُ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ فَأَکَلُوا فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَلُوکَ لُقْمَۃً فِی فَمِہِ ثُمَّ قَالَ : أَجِدُ لَحْمَ شَاۃٍ أُخِذَتْ بِغَیْرِ إِذْنِ أَہْلِہَا۔ فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَۃُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَرْسَلْتُ إِلَی الْبَقِیعِ یُشْتَرَی لِی شَاۃٌ فَلَمْ تُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَی جَارٍ لِی قَدِ اشْتَرَی شَاۃً أَنْ أَرْسِلْ بِہَا إِلَیَّ بِثَمَنِہَا فَلَمْ یُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلَی امْرَأَتِہِ فَأَرْسَلَتْ إِلَیَّ بِہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَطْعِمِیہِ الأُسَارَی ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۳۳۳۲۲]
(١٠٨٢٥) عاصم بن کلیب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں ، وہ انصار کے ایک آدمی سے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ، آپ قبر کھودنے والے کو نصیحت فرما رہے تھے کہ پاؤں اور سر کی جانب سے وسیع کرو۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹے تو ایک عورت نے دعوت دی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے، کھانا لایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ کھانے میں رکھا اور لوگوں نے بھی کھانا شروع کیا، ہمارے آباء نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لقمے کو منہ میں چبا رہے ہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ گوشت کی بکری اپنے مالک کی اجازت کے بغیر حاصل کی گئی ہے، عورت نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے بقیع میں کسی کو بکری خریدنے بھیجا تھا، لیکن بکری نہ ملی۔ پھر میں نے اپنے ہمسائے کی جانب کسی کو بھیجا کہ وہ اتنی قیمت کی بکری لے کر دے لیکن نہ ملی، پھر میں نے اس کی عورت کی طرف کسی کو روانہ کیا تو اس نے بکری لا دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیدیوں کو کھلا دو ۔