(۱۰۸۶) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَبْدِالأَعْلَی بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی الْبَصْرِیِّ أَنَّ ہِشَامَ بْنَ حَسَّانَ حَدَّثَہُ: أَنَّ رَجُلاً أَتَی الْحَسَنَ فَسَأَلَہُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ : انْکَسَرَتْ فَخِذُہُ أَوْ سَاقُہُ فَتُصِیبُہُ الْجَنَابَۃُ۔ فَأَمَرَہُ أَنْ یَمْسَحَ عَلَی الْجَبَائِرِ۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعْدَانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَیْرٍ قَالَ : کَانَ بِی جُرْحٌ شَدِیدٌ مِنَ الطَّاعُونِ وَأَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ ، فَسَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ فَقَالَ : امْسَحْ فَإِنَّہُ یَکْفِیکَ۔ [ضعیف]
(١٠٨٦) (الف) ہشام بن حسان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حسن کے پاس آیا اور سوال کیا، میں سن رہا تھا ، کہنے لگا : اس کی ران یا پنڈلی ٹوٹ گئی ہے اور وہ جنبی ہوگیا ہے تو (کیا کرے ؟ ) آپ نے اس کو پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
(ب) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ مجھے طاعون کا شدید زخم تھا اور میں جنبی ہوگیا، میں نے ابو مجلز سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : مسح کر تجھے یہی کافی ہے۔