hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 10850

.

سنن البيهقي

10850
Sunan Al Bayhaqi
(۱۰۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : دَخَلَتْ بَرِیرَۃُ فَقَالَتْ إِنَّ أَہْلِی کَاتَبُونِی عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِی تِسْعِ سِنِینَ کُلُّ سَنَۃٍ وَقِیَّۃٌ فَأَعِیْنِینِی فَقُلْتُ لَہَا : إِنْ شَائَ أَہْلُکِ أَنْ أَعُدَّہَا لَہُمْ عَدَّۃً وَاحِدَۃً وَأُعْتِقَکِ وَیَکُونَ الْوَلاَئُ لِی فَعَلْتُ۔ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لأَہْلِہَا فَأَبَوْا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لَہُمْ فَأَتَتْنِی فَذَکَرَتْ ذَلِکَ فَانْتَہَرْتُہَا فَقَالَتْ : لاَ ہَا اللَّہِ إِذًا قَالَتْ فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : اشْتَرِیہَا وَأَعْتِقِیہَا وَاشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئَ فَإِنَّ الْوَلاَئَ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ فَفَعَلْتُ قَالَتْ : ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللَّہ -ﷺ- عَشِیَّۃً فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ کِتَابُ اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّہِ أَوْثَقُ مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْکُمْ یَقُولُ أَحَدُہُمْ أَعْتِقْ فُلاَنًا وَالْوَلاَئُ لِی إِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۴۲۴]
(١٠٨٤٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ نے کہا : میرے گھر والوں نے نو سال میں نو اوقیہ ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کی ہے، آپ میری مدد کریں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اگر تیرے مالک چاہیں تو میں ایک ہی مرتبہ رقم ادا کر کے تجھے آزاد کردیتی ہوں اور ولاء میری ہوگی۔ اس نے اپنے اہل سے تذکرہ کیا، لیکن انھوں نے ولاء دینے سے انکار کردیا وہ میرے پاس آئے اس نے تذکرہ کیا تو میں نے اس کو ڈانٹا اور کہا : تب نہیں۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن لیا، میں نے آپ کو خبر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خرید کر آزاد کر اور ولاء کی شرط لگا۔ کیونکہ ولاء آزاد کرنے والی کی ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے ایسا کیا، پھر شام کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا ، اللہ کی حمد وثناء بیان کی ، جس کا وہ اہل ہے پھر فرمایا : لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو کتاب میں نہیں ہے، جو شرط بھی کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرائط بھی ہوں۔ کتاب اللہ زیادہ حق رکھتی ہے اور اللہ کی شرائط زیادہ پختہ ہوتی ہے، آدمیوں کو کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں تو آزاد کر اور ولاء میرے لیے ہے، حالانکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔