(۱۰۸۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : لاَ رِبَا فِی الْحَیَوَانِ وَإِنَّمَا نُہِیَ مِنَ الْحَیَوَانِ عَنْ ثَلاَثٍ عَنِ الْمَضَامِینِ وَالْمَلاَقِیحِ وَحَبَلِ الْحَبَلَۃِ۔ وَالْمَضَامِینُ مَا فِی بُطُونِ إِنَاثِ الإِبِلِ وَالْمَلاَقِیحُ مَا فِی ظُہُورِ الْجِمَالِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُزَنِیِّ عَنِ الشَّافِعِیِّ أَنَّہُ قَالَ : الْمَضَامِینُ مَا فِی ظُہُورِ الْجِمَالِ وَالْمَلاَقِیحُ مَا فِی بُطُونِ إِنَاثِ الإِبِلِ وَکَذَلِکَ فَسَّرَہُ أَبُو عُبَیْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۳۳۴]
(١٠٨٦٣) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حیوانوں میں سود نہیں ہوتا۔ لیکن حیوانوں سے تین چیزیں منع ہیں : 1 مضامین، 2 ملاقیح 3 حبل الحبلہ مضامین وہ ہے جو مادہ کے پیٹ میں ہو۔ ملاقیح جو اونٹوں کی پشتوں میں ہو۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : امام مزنی امام شافعی (رح) سے نقل فرماتے ہیں کہ مضامین جو اونٹوں کے پشتوں میں ہو اور ملاقیح جو مادہ کے پیٹ میں ہو۔