(۱۰۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْحَسَنِ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یُصَلِّی عَلَی الْجَنَازَۃِ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ۔ وَالَّذِی رُوِیَ عَنْہُ فِی التَّیَمُّمِ لِصَلاَۃِ الْجَنَازَۃِ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ فِی السَّفَرِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَائِ۔
وَفِی إِسْنَادِ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ فِی التَّیَمُّمِ ضَعْفٌ ذَکَرْنَاہُ فِی کِتَابِ الْمَعْرِفَۃِ
وَالَّذِی رَوَی الْمُغِیرَۃُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی ذَلِکَ لاَ یَصِحُّ عَنْہُ ، إِنَّمَا ہُوَ قَوْلُ عَطَائٍ ، کَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ مِنْ قَوْلِہِ ، وَہَذَا أَحَدُ مَا أَنْکَرَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ عَلِی الْمُغِیرَۃِ بْنِ زِیَادٍ ، وَقَدْ رَفَعَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -وَہُوَ خَطَأٌ قَدْ بَیَّنَاہُ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]
(١٠٩٣) (الف) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : پاک آدمی ہی نماز جنازہ پڑھے۔
(ب) امام مالک نافع سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سے نماز جنازہ کے لیے تیمم کے متعلق جو منقول ہے اس میں احتمال ہے کہ یہ سفر میں ہو جب پانی پاس نہ ہو۔
(ج) ابن عمر (رض) کی تیمم والی حدیث کی سند میں ضعف ہے جسے ہم نے کتاب المعرفہ میں بیان کیا ہے۔
(د) وہ روایت جو مغیرہ بن زیادہ عن عطاء عن ابن عباس ہے وہ ان سے صحیح سند سے ثابت نہیں۔ یہ صرف امام عطاء کا قول ہے۔ (س) اسی طرح ابن جریج نے امام عطاء کا قول نقل کیا ہے۔ اس پر امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے مغیرہ بن زیاد کا انکار کیا ہے۔ اس نے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرفوع حدیث بیان کی ہے یہ انتہائی سنگین غلطی ہے۔