(۱۰۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا عُمَیْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ
عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : خَرَجَ رَجُلاَنِ فِی سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ وَلَیْسَ مَعَہُمَا مَائٌ ، فَتَیَمَّمَا صَعِیدًا طَیِّبًا فَصَلَّیَا ، ثُمَّ وَجَدَا الْمَائَ فِی الْوَقْتِ ، فَأَعَادَ أَحَدُہُمَا الصَّلاَۃَ وَالْوُضُوئَ وَلَمْ یُعِدِ الآخَرُ ، ثُمَّ أَتَیَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -فَذَکَرَا ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ لِلَّذِی لَمْ یُعِدْ : ((أَصَبْتَ السُّنَّۃَ وَأَجْزَأَتْکَ صَلاَتُکَ))۔ وَقَالَ لِلَّذِی تَوَضَّأَ وَأَعَادَ : ((لَکَ الأَجْرُ مَرَّتَیْنِ))۔
وَرَوَاہُ غَیْرُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نَافِعٍ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ أَبِی نَاجِیَۃَ عَنْ بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مُرْسَلاً۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد ۳۳۸]
(١٠٩٤) سیدنا ابی سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے کہ نماز کا وقت ہوگیا، ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز ادا کی، پھر انھوں نے آخری وقت میں پانی پا لیا۔ ایک نے دوبارہ نماز لوٹائی اور دوسرے نے نہیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو سارا واقعہ ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو فرمایا : جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی تو نے سنت کو پا لیا ہے اور تجھ کو تیری نماز کافی ہے اور اس شخص سے کہا : جس نے وضو کیا اور دوبارہ نماز لوٹائی کہ تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔