(۱۰۹۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ فَلَقِیتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ سَلاَمٍ فَقَالَ لِی : أَلاَ تَجِیئُ إِلَی الْبَیْتِ حَتَّی أُطْعِمَکَ سَوِیقًا وَتَمْرًا فَذَہَبْنَا فَأَطْعَمَنَا سَوِیقًا وَتَمْرًا ثُمَّ قَالَ : إِنَّکَ بِأَرْضٍ الرِّبَا فِیہَا فَاشٍ فَإِذَا کَانَ لَکَ عَلَی رَجُلٍ دَیْنٌ فَأَہْدَی إِلَیْکَ حَبْلَۃً مِنْ عَلَفٍ أَوْ شَعِیرٍ أَوْ حَبْلَۃً مِنْ تِبْنٍ فَلاَ تَقْبَلْہُ فَإِنَّ ذَلِکَ مِنَ الرِّبَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَرُوِّینَا عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قِصَّۃً شَبِیہَۃً بِہَذِہِ الْقِصَّۃِ فِی الْقَرْضِ وَالْہَدِیَّۃِ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۶۰۳]
(١٠٩٢٧) حضرت ابوبردہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں آکر عبداللہ بن سلام سے ملا تو عبداللہ نے کہا : کیا آپ گھر نہیں آئیں گے کہ میں آپ کو ستو اور کھجور کھلاؤں، ہم گئے تو انھوں نے ہمیں ستو اور کھجوریں کھلائیں، پھر فرمایا : آپ ایسے علاقہ میں ہیں جہاں سود عام ہے، جب آدمی کے ذمہ قرض ہو، وہ آپ کو رسی میں باندھی خشک گھاس یا جَو کا گٹھا یا بھوسہ ہدیہ میں دے تو قبول نہ کرنا، کیونکہ یہ سود ہے۔
(ب) ابی بن کعب نے اس کے مشابہہ قصہ بیان کیا ہے جو قرض اور ہدیہ کے مشابہہ ہے۔