(۱۰۹۶۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ: یَارَسُولَ اللَّہِ إِنْ قُتِلْتُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَفَّرَ اللَّہُ عَنِّی خَطَایَایَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنْ قُتِلْتَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلاً غَیْرَ مُدْبِرٍ کَفَّرَ اللَّہُ عَنْکَ خَطَایَاکَ۔ فَلَمَّا جَلَسَ دَعَاہُ فَقَالَ: کَیْفَ قُلْتَ؟ فَأَعَادَ عَلَیْہِ فَقَالَ : إِلاَّ الدَّیْنَ کَذَلِکَ أَخْبَرَنِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔[صحیح۔ مسلم ۱۸۸۵]
(١٠٩٦٢) حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید کردیا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کردیے جائیں گے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو اللہ کے راستہ میں صبر کرنے والا، ثواب کی نیت رکھنے والا، آگے بڑھ کر لڑنے والا، میدان سے بھاگنے والا نہیں پھر شہید کردیا گیا تو اللہ تیرے گناہ معاف کر دے گا، جب وہ بیٹھ گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو نے کیا کہا تھا، اس نے دوبارہ دھرایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرض نہیں کیونکہ جبرائیل نے ابھی مجھے خبر دی ہے۔