(۱۰۹۹۵) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : إِنَّ فِی حَجْرِی أَمْوَالُ یَتَامَی وَہُوَ یَسْتَأْذِنُہُ أَنْ یُصِیبَ مِنْہَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَسْتَ تَبْغِی ضَالَّتَہَا قَالَ : بَلَی قَالَ : أَلَسْتَ تَہْنَأُ جَرْبَاہَا قَالَ : بَلَی قَالَ : أَلَسْتَ تَلُوطُ حِیَاضَہَا قَالَ : بَلَی قَالَ : أَلَسْتَ تَفْرِطُ عَلَیْہَا یَوْمَ وَرْدِہَا قَالَ : بَلَی قَالَ فَأَصِبْ مِنْ رِسْلِہَا یَعْنِی مِنْ لَبَنِہَا۔
[مصنف عبدالرزاق :۱۴۷ ، کتاب التفسیر میں، تفسیر طبری رقم ۸۶۳۱]
(١٠٩٩٥) قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میرے پاس یتیم کا مال ہے اور پوچھنے لگا : کیا میں اس میں سے لے سکتا ہوں ؟ تو ابن عباس (رح) فرمانے لگے : کیا تم اس کی گمشدہ چیز تلاش کرسکتے ہو ؟ کیا تم اس خارش زدہ اونٹ کا علاج نہیں کرتے ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں ! انھوں نے پھر پوچھا : کیا تو اس کے حوض کا لیپ نہیں کرتا ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں ، پھر سوال کیا : کیا تو اس کے وارد ہونے کے دن خوش نہیں ہوتا ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں، خوش ہوتا ہوں تو آپ (رض) نے فرمایا : تو پھر تو اس کا دودھ بھی لے سکتا ہے۔