(۱۱۰۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَّائُ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ التَّابِعِینَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ دَیْنُ الْمَمْلُوکِ فِی ذِمَّتِہِ وَمَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ سِوَی الدَّیْنِ مِثْلَ الشَّیْئِ یَخْتَلِسُہُ أَوِ الْمَالِ یَغْتَصِبُہُ أَوِ الْبَعِیرِ یَنْحَرُہُ فَذَلِکَ کُلُّہُ بِمَنْزِلَۃِ الْجُرْحِ یَجْرَحُہُ إِمَّا أَنْ یَفْدِیَہِ سَیِّدُہُ وَإِمَّا أَنْ یُسَلِّمَ عَبْدَہُ۔
(١١٠٠٥) عبدالرحمن بن ابی زناد اپنے والدسینقل فرماتے ہیں کہ مدینہ کے فقہاے تابعین فرمایا کرتے تھے کہ غلام کا قرض آقا کے ذمہ ہے اور جو وہ لوگوں کے مال میں سے لے سوائے قرض کے۔ مثلاًوہ کسی سے کوئی چیز چھین لے یا مال غصب کرلے یا کسی کا اونٹ ذبح کر دے تو یہ زخم کے مانند ہے جو اسے لگتا ہے یا تو آقا اس کا ہر جا نہ دے گا یا پھر اپنا غلام سپرد کر دے گا۔