(۱۱۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَیَمَّمَ بِمَرْبَدِ النَّعَمِ وَصَلَّی وَہُوَ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَمْیَالٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَدِینَۃَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ فَلَمْ یُعِدْ۔
رَوَاہُ ابْنُ عُیَیْنَۃَ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ وَرَوَاہُ یَحْیَی الأَنْصَارِیُّ وَمَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ۔
[حسن۔ أخرجہ الشافعی ۱۱۵]
(١١٠٣) نافع سے روایت ہے ابن عمر (رض) نے مربد النعم جگہ پر تیمم کیا اور نماز پڑھی اور وہ جگہ مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے، پھر مدینہ میں داخل ہوئے اور سورج بلند تھا انھوں نے نماز نہیں لوٹائی۔