(۱۱۰۷۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرُوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ إِیَاسٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَقِیقٍ قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَکْرَہُونَ بَیْعَ الْمَصَاحِفِ۔ [کتاب الام ۱۷۶۷]
(١١٠٧٠) حضرت علقمہ (رض) عبداللہ بن مسعود (رض) کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ مصحف شریف کی خریدو فروخت کو ناپسند کرتے تھے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بعض عراقی اس کی خریدو فروخت جائز سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ مصحف کے خریدنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور ہم اس کے بیچنے کو ناپسند کرتے ہیں۔ شیخ صاحب فرماتے ہیں : یہ کراہت تنزیہی ہے، مصحف شریف کی تعظیم کے لیے کہ کہیں اسے سامان تجارت نہ بنالیا جائے اور ایک روایت میں ہے کہ ابن مسعود نے اس کی رخصت دی تھی اور وہ روایت سنداًضعیف ہے اور ابن عباس کا قول کہ مصحف کو خرید، بیچ نہ اگر صحیح ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مصحف کو بیچنا جائز تو نہیں ہے لیکن مکروہ ہے۔