(۱۱۰۷۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرُوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِبَیْعِ الْمَصَاحِفِ وَاشْتِرَائِہَا۔قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّمَا یَبْتَغِی ثَمَنَ وَرَقِہِ وَأَجْرَ کِتَابِہِ۔قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ دِینَارٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَیَّ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ وَأَنَا أَکْتُبُ فَقُلْتُ : کَیْفَ تَرَی صَنْعَتِی ہَذِہِ یَا أَبَا الشَّعْثَائِ ؟ فَقَالَ : مَا أَحْسَنَ صَنْعَتَکَ تَنْقُلُ کِتَابَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَقَۃً إِلَی وَرَقَۃٍ وَآیَۃً إِلَی آیَۃٍ وَکَلِمَۃً إِلَی کَلِمَۃٍ ہَذَا الْحَلاَلُ لاَ بَأْسَ بِہِ۔قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ دِینَارٍ : أَنَّ عِکْرِمَۃَ بَاعَ مُصْحَفًا لَہُ وَأَنَّ الْحَسَنَ کَانَ لاَ یَرَی بِہِ بَأْسًا۔
(١١٠٧٤) مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ ایک دن میں لکھ رہا تھا کہ جابر بن زائد آئے، چنانچہ میں نے کہا : اے ابو شعثاء آپ میرے اس کام کے بارے میں کیا موقف رکھتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : آپ کا یہ کام بہت اچھا ہے۔ آپ ایک ایک آیت اور کلمے کو لکھ کر منتقل کر رہے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح عکرمہ کے بارے میں مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنے مصحف شریف کو بیچا اور امام حسن (رح) اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔