(۱۱۰۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانَ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مُجَالِدٍ قَالَ : أَرْسَلَنِی أَبُو بُرْدَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ شَدَّادٍ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی قَالَ فَسَأَلْتُہُمَا عَنِ السَّلَفِ فَقَالاَ : کُنَّا نُصِیبُ الْمَغَانِمَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ یَأْتِینَا أَنْبَاطُ الشَّامِ فَنُسْلِفُہُمْ فِی الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرِ وَالزَّیْتِ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی قَالَ أَکَانَ لَہُمْ زَرْعٌ أَوْ لَمْ یَکُنْ لَہُمْ زَرْعٌ؟ قَالَ : مَا کُنَّا نَسْأَلُہُمْ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنِ ابْنِ مُبَارَکِ۔ [صحیح۔ البخاری ۲۲۴۳]
(١١٠٩٢) محمد بن ابی مجاہدکہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن شداد اور ابو بردہ نے ابن ابزی اور ابن ابی اوفی کے پاس بھیجا، میں نے ان دونوں سے بیع سلف کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہمیں غنیمت کا حصہ ملتا تھا، پھر ہمارے پاس شام کے لوگ آتے، ہم ان سے گندم ، جو اور کش مش میں وقت مقررہ تک کے لیے بیع سلف کرتے تھے ، ان سے کہا گیا : کیا ان کے پاس کھیتی ہوتی تھی ؟ تو انھوں نے جواب دیا : ہم اس بارے میں ان سے نہیں پوچھتے تھے۔