(۱۱۱۱۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِیٍّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً أَسْلَفَ رَجُلاً فِی نَخْلٍ فَلَمْ یُخْرِجْ تِلْکَ السَّنَۃَ شَیْئًا فَاخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَہُ ارْدُدْ عَلَیْہِ ۔ قَالَ ثُمَّ قَالَ : لاَ تُسْلِفُوا فِی النَّخْلِ حَتَّی یَبْدُوَ صَلاَحُہُ ۔
(١١١١٣) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کھجوروں میں بیع سلف کی تو اس سال کھجوروں پر پھل نہ لگا ، جھگڑا رسول اللہ کے پاس لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کا مال اپنے لیے کیوں حلال سمجھتا ہے ؟ اسے واپس کر دو ، پھر آپ نے فرمایا : کھجور کے پکنے سے پہلے اس میں بیع سلف نہ کرو۔