(۱۱۱۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ نَجْرَانَ یَقُولُ : قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ أَسْأَلُکَ عَنِ السَّلَمِ فِی النَّخْلِ فَقَالَ : أَمَّا السَّلَمُ فِی النَّخْلِ فَإِنَّ رَجُلاً أَسْلَمَ فِی نَخْلٍ لِرَجُلٍ فَلَمْ یَحْمِلْ ذَلِکَ الْعَامَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : بِمَ تَأْکُلُ مَالَہُ ۔ فَأَمَرَہُ فَرَدَّ عَلَیْہِ ثُمَّ نَہَی عَنِ السَّلَمِ فِی النَّخْلِ حَتَّی یَبْدُوَ صَلاَحُہُ۔
(١١١١٢) اہل نجران کے ایک آدمی نے ابن عمر (رض) سے کھجور میں بیع سلم کرنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کھجوروں میں بیع سلم کی تھی، اس سال کھجوروں پر پھل نہ لگا، اس نے یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کا مال کیوں کھاتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا کہ اسے بیع واپس کر دو ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجوروں میں بیع سلم کرنے سے منع کردیا یہاں تک کہ پھل پک جائے ۔