(۱۱۱۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ جَزَرَۃُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ وَہَذَا لَفْظُہُ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِیُّ الْمَکِّیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ یَزِیدَ بْنِ رُکَانَۃَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِإِخْرَاجِ بَنِی النَّضِیرِ مِنَ الْمَدِینَۃِ جَائَ ہُ نَاسٌ مِنْہُمْ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ أَمَرْتَ بِإِخْرَاجِہِمْ وَلَہُمْ عَلَی النَّاسِ دُیُونٌ لَمْ تَحِلَّ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا أَوْ قَالَ وَتَعَاجَلُوا ۔ وَرَوَاہُ الْوَاقِدِیُّ فِی سِیَرِہِ عَنِ ابْنِ أَخِی الزُّہْرِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ۔ [الطبرانی فی الاوسط ۸۱۷]
(١١١٣٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو مدینہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دیا تو ان کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! آپ نے انھیں نکالنے کا حکم دیا ہے اور انھوں نے لوگوں سے قرض لینا ہے تو آپ نے فرمایا : معاف کرواؤاور جلدی ادا کرو یا فرمایا : اپنے لین دین جلدی نمٹا لو۔