(۱۱۱۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ مَوْلَی السَّفَّاحِ أَنَّہُ قَالَ : بِعْتُ بَزًّا مِنْ أَہْلِ السُّوقِ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَی الْکُوفَۃِ فَعَرَضُوا عَلَیَّ أَنْ أَضَعَ عَنْہُمْ وَیَنْقُدُونِی فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : لاَ آمُرُکَ أَنْ تَأْکُلَ ہَذَا وَلاَ تُؤْکِلَہُ۔ [موطا امام مالک ۱۳۵۱]
(١١١٣٨) ابو صالح فرماتے ہیں : میں نے بازار میں روٹی بیچی اور اس کی ادائیگی کا وقت مقرر کیا ۔ پھر میں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تو انھوں نے مجھے سے شرط لگائی کہ میں کچھ قرض معاف کر دوں تو وہ وقت سے پہلے ادائیگی کردیں گے۔ میں نے یہ بات حضرت زید بن ثابت (رض) کو بتائی تو انھوں نے فرمایا : میں تجھے اس بات کا حکم نہیں دیتا کہ تو ایسا مال کھائے یا دوسروں کو کھلائے۔