(۱۱۱۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ یَعْقُوبَ الثَّقَفِیُّ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی وَاللَّفْظُ لِلثَّقَفِیِّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَعُودُنِی وَأَنَا مَرِیضٌ لاَ أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ عَلَیَّ مِنْ وَضُوئِہِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لِمَنِ الْمِیرَاثُ إِنَّمَا یَرِثُنِی کَلاَلَۃٌ ، فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْفَرَائِضِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخِرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۹۱]
(١١١٨) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ جب میں مریض تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری تیمار داری کیا کرتے تھے، اس وقت مجھے ہوش نہیں تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے ہوش آگیا، میں نیعرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میری وراثت کس کے لیے ہے، میرا وارث کلالہ ہے ؟ تو فرائض کی آیت نازل ہوئی۔