(۱۱۲۲۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنْا ابْنُ مُبَارَکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائَ یُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلاً رَہَنَ فَرَسًا فَنَفَقَ فِی یَدِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلْمُرْتَہَنِ : ذَہَبَ حَقُّہُ ۔وَقَدْ کَفَانَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ بَیَانَ وَہَنِ ہَذَا الْحَدِیثِ وَذَلِکَ فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ حَدَّثَہُمْ قَالَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : زَعَمَ الْحَسَنُ کَذَا ثُمَّ حَکَی ہَذَا الْقَوْلَ۔ قَالَ إِبْرَاہِیمُ : کَانَ عَطَاء ٌ یَتَعَجَّبُ مِمَّا رَوَی الْحَسَنُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَأَخْبَرَنِیہِ غَیْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُصْعَبٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ الْحَسَنِ وَأَخْبَرَنِی مَنْ أَثِقُ بِہِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ رَوَاہُ عَنْ مُصْعَبٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَسَکَتَ عَنِ الْحَسَنِ فَقُلْتُ لَہُ أَصْحَابُ مُصْعَبٍ یَرْوُونَہُ عَنْ عَطَائٍ عَنِ الْحَسَنِ فَقَالَ : نَعَمْ کَذَلِکَ حَدَّثَنَا وَلَکِنْ عَطَاء ٌ مُرْسَلاً أَنْفَقُ مِنَ الْحَسَنِ مُرْسَلاً۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَمِمَّا یَدُلُّکَ عَلَی وَہَنِ ہَذَا عِنْدَ عَطَائٍ إِنْ کَانَ رَوَاہُ أَنَّ عَطَائً یُفْتِی بِخِلاَفِہِ وَیَقُولُ فِیہِ بِخِلاَفِ ہَذَا کُلِّہُ یَقُولُ فِیمَا ظَہَرَ ہَلاَکُہُ أَمَانَۃٌ وَفِیمَا خَفِیَ ہَلاَکُہُ یَتَرَادَّانِ الْفَضْلَ وَہَذَا أَثْبَتُ الرِّوَایَۃ عَنْہُ وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ یَتَرَادَّانِ مُطْلَقَۃً وَمَا شَکَکْنَا فِیہِ فَلاَ نَشُکُّ أَنَّ عَطَائً إِنْ شَائَ اللَّہُ لاَ یَرْوِی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُثْبِتًا عِنْدَہُ وَیَقُولُ بِخِلاَفِہِ مَعَ إِنِّی لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا یَرْوِی ہَذَا عَنْ عَطَائٍ یَرْفَعُہُ إِلاَّ مُصْعَبًا وَالَّذِی رَوَی عَنْ عَطَائً رَفَعَہُ مُوَافِقٌ قَوْلَ شُرَیْحٍ : إَنَّ الرَّہْنَ بِمَا فِیہِ وَقَدْ یَکُونُ الْفَرَسُ أَکْثَرَ مِمَّا فِیہِ مِنَ الْحَقِّ وَمِثْلَہُ وَأَقَلَّ فَلَمْ یُرْوَ أَنَّہُ سَأَلَہُ عَنْ قِیمَۃِ الْفَرَسِ۔قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ عَنْ غَیْرِہِ عَنْ عَطَائٍ یَرْفَعُہُ الرَّہْنُ بِمَا فِیہِ۔ [ضعیف]
(١١٢٢٥) حضرت مصعب بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نے گھوڑا گروی رکھا تو وہ مرگیا ۔ آپ نے اس شخص کو جس کے پاس گھوڑا گروی تھا ۔ کہا : اب تیرا حق ختم ہوگیا ہے۔ امام شافعی نے اس حدیث کی کمزوریاں بیان کی ہیں۔ عطاء سے روایت ہے کہ حسن نے اس طرح دعویٰ کیا، پھر یہ قول بیان کیا کہ ابراہیم کہتے ہیں کہ جو حسن نے روایت کیا ہے عطاء اس سے تعجب کرتے ہیں۔ امام شافعی ثقہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی اہل علم میں سے مصعب عن عطاء عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روایت کرتے ہیں اور حسن کے بارے میں سکوت کیا گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ اصحاب مصعب عطاء اور حسن سے روایت کرتے ہیں ؟ تو انھوں نے کہا : جی ہاں اسی طرح اس نے ہمیں بیان کیا، لیکن وہ عطاء سے مرسل ہے میں حسن سے مرسل بیان کرتا ہوں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ کمزوری عطاء کی وجہ سے ہے۔ اگر وہ اس کو روایت کرے تو اس کے خلاف روایت کرتا ہے اور اس کے متعلق کہتا ہے کہ اس ساری روایت میں اختلاف ہے، جس میں اس کی امانت ختم ہوجائے گئی اور جو اس میں مخفی ہے اس فضیلت پر وہ دونوں معتبر ہیں اور زیادہصحیح روایت ہے ان کے ہاں۔