(۱۱۲۲۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِیُّ أَخْبَرَنَا الْوَلِیدُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ : أَنَّ رَجُلاً رَہَنَ فَرَسًا فَنَفَقَ الْفَرَسُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : الرَّہْنُ بِمَا فِیہِ ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا بِہَذَا اللَّفْظِ دُونَ الْقِصَّۃِ زَمْعَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ مُرْسَلاً۔ وَزَمْعَۃُ غَیْرُ قَوِیٍّ وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْذَہُ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ بِمُرْسَلِ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ دُونَ غَیْرِہِ لأَنَّ مَرَاسِیلَہُ أَصَحُّ مِنْ مَرَاسِیلِ غَیْرِہِ وَلأَنَّہُ قَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١١٢٢٦) حضرت عطاء فرماتے ہیں : ایک آدمی نے گھوڑا گروی رکھاتو وہ ہلاک ہوگیا۔ آپ نے فرمایا : رہن اسی چیز کے بدلے میں ہوتی ہے جس میں وہ ہو۔ اس حدیث کو انھی الفاظ کے ساتھ زمعہ بن صالح ابن طاؤس سے اور وہ اپنے والد سے مرسل بیان کرتے ہیں؛ لیکن قصہ مختلف ہے اور زمعہ غیر قوی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں : اس مسئلہ میں سعید بن مصعب کی مرسل مقبول ہے کیونکہ ان کی مرسل دوسروں کی مرسل سے قوی ہوتی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ روایت موصولاًبھی روایت کی گئی ہے۔