hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 1125

.

سنن البيهقي

1125
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۲۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَقِیلٍ عَنِ الرُّبَیِّعِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -مَسَحَ بِرَأْسِہِ مِنْ فَضْلِ مَائٍ کَانَ فِی یَدِہِ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دَاوُدَ وَغَیْرِہِ عَنِ الثَّوْرِیِّ وَقَالَ بَعْضُہُمْ بِبَلَلِ یَدَیْہِ۔ وَکَأَنَّہُ أَرَادَ أَخَذَ مَائً جَدِیدًا فَصَبَّ بَعْضَہُ وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِبَلَلِ یَدَیْہِ۔ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ لَمْ یَکُنْ بِالْحَافِظِ وَأَہْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ مُخْتَلِفُونَ فِی جَوَازِ الاِحْتِجَاجِ بِرِوَایَاتِہِ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ : ابْنُ عَقِیلٍ لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ۔ وَقَالَ أَبُو عِیسَی : سَأَلْتُ الْبُخَارِیَّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ فَقَالَ : رَأَیْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ وَالْحُمَیْدِیَّ یَحْتَجُّونَ بِحَدِیثِہِ وَہُوَ مُقَارِبُ الْحَدِیثِ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَإِسْنَادُہُ ضَعِیفٌ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی الْغُسْلِ شَیْئٌ فِی مَعْنَاہُ ، وَلاَ یَصِحُّ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ لِضَعْفِ أَسَانِیدِہِ وَقَدْ بَیَّنْتُہُ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ وَأَصَحُّ شَیْئٍ فِیہِ مَا رَوَاہُ أَبُو دَاُودَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ زِیَادٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: أَنَّہُ اغْتَسَلَ فَرَأَی لُمْعَۃً عَلَی مَنْکِبِہِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ ، فَأَخَذَ خَصْلَۃً مِنْ شَعَرِ رَأْسِہِ فَعَصَرَہَا عَلَی مَنْکِبِہِ ، ثُمَّ مَسَحَ یَدَہُ عَلَی ذَلِکَ الْمَکَانِ۔ وَہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۳۰]
(١١٢٦) (الف) ربیع سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ میں بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔
(ب) عبداللہ بن داؤد وغیرہ ثوری سے نقل کرتے ہیں کہ بعض نے کہا : آپ اپنے ہاتھوں کی تری سے ہی مسح کرتے تھے، یعنی جب آپ کسی دوسرے عضو کو دھونے کے لیے پانی لیتے تو اسے اس پر بہاتے اور پھر باقی ماندہ ہاتھوں کی تری سے مسح کرتے۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل حافظ حدیث نہیں تھے۔ محدثین ان کو روایات کو قابل حجت کے جواز کو سمجھنے میں مختلف فیہ ہیں۔ (ج) یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن عقیل کی احادیث قابل حجت نہیں۔ (د) امام ترمذی نے امام بخاری (رح) نے ابن عقیل کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا : میں نے احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم اور حمیدی کو دیکھا، وہ اس کی احادیث کو قابل حجت سمجھتے تھے۔ (ر) ابودرداء عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والی روایت کی سند ضعیف ہے۔ (س) سیدنا علی، ابن عباس، ابن مسعود، عائشہ اور انس بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غسل کے متعلق اس کے ہم معنی روایت کرتے ہیں لیکن ان کی اسانید ضعیف ہیں۔ خلافیات میں اس کی مکمل وضاحت ہے۔ (ط) امام ابوداؤد مراسیل میں علاء بن زیاد کے واسطے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے غسل کیا اور کندھے پر تھوڑی سی خشک جگہ تھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر کے بالوں سے پانی لے کر وہاں کندھے پر نچوڑ دیا، پھر ہاتھ کے ساتھ اس کو مل دیا۔ یہ روایت منقطع ہے۔