(۱۱۲۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ حَدَّثَنِی أَبُو الْمُعْتَمِرِ عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَۃَ قَالَ : أَتَیْنَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ فِی صَاحِبٍ لَنَا أُصِیبَ یَعْنِی أَفْلَسَ فَأَصَابَ رَجُلٌ مَتَاعًا بِعَیْنِہِ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : ہَذَا الَّذِی قَضَی فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَأَدْرَکَ رَجُلٌ مَتَاعَہُ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ إِلاَّ أَنْ یَدَعَ الرَّجُلُ وَفَائً ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ وَعَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ وَغَیْرُہُمَا عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ وَقَالاَ: إِلاَّ أَنْ یَتِرُکَ صَاحِبُہُ وَفَائً۔
[مسند طیالسی ۲۴۹۷]
(١١٢٥٤) حضرت عمربن خلدہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوھریرہ (رض) کے پاس ایک مفلس آدمی کے بارے میں مسئلہ پوچھنے کے لیے آئے۔ اس مفلس کے پاس ایک دوسرے آدمی نے اپنا سامان بعنہ پالیاتوحضرت ابوھریرہ (رض) فرمانے لگے : یہ وہ معاملہ ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا تھا کہ جو آدمی مفلس ہوجائے یا مرجائے اور دوسرا آدمی اپنا سامان بعینہ پالے وہ زیادہ حق دا رہے الا یہ کہ آدمی اپنے پیچھے اتنا کچھ چھوڑ جائے جو قرضے کی ادائیگی کے لیے کافی ہو۔ اسی طرح اس حدیث کو شبابہ بن سوار اور عاصم بن علی وغیرہ نے ابن ابی ذئب سے روایت کیا ہے، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں : مگر یہ کہ وہ مرنے والا پورامال چھوڑ جائے جو قرضے کی دائیگی کے لیے کافی ہو ۔