hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11260

.

سنن البيهقي

11260
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۲۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ قَدْ کَانَ فِیمَا قَرَأْنَا عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ یَعْنِی ابْنَ ہِشَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِی ابْتَاعَہُ وَلَمْ یَقْبِضِ الْبَائِعُ مِنْ ثَمَنِہِ شَیْئًا فَوَجَدَہُ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ وَإِنْ مَاتَ الْمُشْتَرِی فَصَاحِبُ السِّلْعَۃِ أُسْوَۃُ الْغُرَمَائِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ الَّذِی أَخَذْتُ بِہِ أَوْلَی بِی یَعْنِی حَدِیثَ ابْنِ خَلْدَۃَ مِنْ قِبَلِ أَنَّ مَا أَخَذْتُ بِہِ مَوْصُولٌ یَجْمَعُ فِیہِ النَّبِیُّ -ﷺ- بَیْنَ الْمَوْتِ وَالإِفْلاَسِ وَحَدِیثُ ابْنِ شِہَابٍ مُنْقَطِعٌ وَلَوْ لَمْ یُخَالِفْہُ غَیْرُہُ لَمْ یَکُنْ مِمَّا یُثْبِتُہُ أَہْلُ الْحَدِیثِ وَلَوْ لَمْ یَکُنْ فِی تَرْکِہِ حُجَّۃٌ إِلاَّ ہَذَا انْبَغَی لِمَنْ عَرَفَ الْحَدِیثَ تَرْکُہُ مِنَ الْوَجْہَیْنِ مَعَ أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَرْوِی عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ حَدِیثَہُ لَیْسَ فِیہِ مَا رَوَی ابْنُ شِہَابٍ عَنْہُ مُرْسَلاً إِنْ کَانَ رَوَاہُ کُلَّہُ وَلاَ أَدْرِی عَمَّنْ رَوَاہُ وَلَعَلَّہُ رَوَی أَوَّلَ الْحَدِیثِ وَقَالَ بِرَأْیِہِ آخِرَہُ وَمَوْجُودٌ فِی حَدِیثِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ انْتَہَی بِالْقَوْلِ : فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ ۔ أَشْبَہَ أَنْ یَکُونَ مَا زَادَ عَلَی ہَذَا قَوْلاً مِنْ أَبِی بَکْرٍ لاَ رِوَایَۃً۔قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَاہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ مَوْصُولاً وَلاَ یَصِح۔ [موطا امام مالک ۲۶۸۶]
(١١٢٥٥) حضرت عبداللہ بن حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی اپنا کوئی سامان بیچے، پھر خریدنے والا مفلس ہوجائے اور ابھی تک بیچنے والے نے رقم نہ لی ہو اور وہ اپنا سا مان بعینہ پالے تو وہ زیادہ حق دار ہے اور اگر خریدنے والا مرجائے تو سامان کا مالک دوسرے قرض خواہوں کے برابر حصہ دار ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں : جس حدیث کو میں نے لیا ہے یعنی ابن خلدہ کی حدیث، وہ اس اعتبار سے زیادہ اولیٰ ہے کہ وہ موصولاًہے، اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے افلاس اور موت دونوں کا ذکر کیا ہے اور ابن شہاب کی حدیث منقطع ہے۔ اگرچہ یہ حدیث دوسروں کے معارض نہ بھی ہوتی تب بھی محدثین کے نزدیک یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اگرچہ اس حدیث کو ترک کرنے کی صرف یہی دلیل ہے۔ اس سے بھی وہ شخص جو احادیث کی پہچان رکھتا ہے اس کے لیے دو وجوہات کی بنا پر اس حدیث کو ترک کرنا ضروری ہے باوجود اس کے کہ جو حدیث ابوبکر بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں اس میں وہ الفاظ نہیں ہیں جو ابن شہاب ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں بشرطیکہ اس نے روایت مکمل ذکر کی ہو اور میں نہیں جانتا کہ اس نے کس سے روایت کیا ہے۔ شاید اس نے پہلا حصہ تو حدیث کا بیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں انھوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور ابوبکر کی جو ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے اس میں آخری الفاظ فھواحق بہ “ کے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اس سے جو اگلے الفاظ ہیں وہ ابوبکر کا قول ہے حدیث کے الفاظ نہیں ہیں اور اسماعیل بن عیاش نے زبیدی سے عن امام زہری کا جو موصولاًبیان کیا ہے وہ درست نہیں ۔