(۱۱۲۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِی دُلَیْلَۃَ عَنْ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لَیُّ الْوَاجِدِ یُحِلُّ عِرْضَہُ وَعُقُوبَتَہُ ۔قَالَ سُفْیَانُ یَعْنِی عِرْضَہُ أَنْ یَقُولَ : ظَلَمَنِی حَقِّی وَعُقُوبَتُہُ یُسْجَنُ۔ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٌ ہَذَا ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَیْمُونِ ابْنِ مُسَیْکَۃَ۔ [مسند احمد ۴/۲۲۲ و ابو داؤد ۳۶۲۸]
(١١٢٧٩) حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے پاس مال ہو اور وہ قرض کی ادائیگی میں دیر کرے تو اس کی عزت اور اسے سزا دینا جائز ہوجاتا ہے۔ سفیان کہتے ہیں کہ عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ وہ کہے کہ اس نے میرا حق کھایا ہے اور سزا کے جائز ہونے کا مطلب ہے کہ اسے قید کیا جائے۔