(۱۱۲۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ سَابَقٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی قَیْسٍ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَخِیہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : دَخَلَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- الْمَسْجِدَ وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ مُلاَزِمٌ رَجُلاً قَالَ فَصَلَّی وَقَضَی حَاجَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا ہُوَ مُلاَزِمُہُ قَالَ : حَتَّی الآنَ یَا أُبَیُّ حَتَّی الآنَ یَا أُبَیُّ مَنْ طَلَبَ أَخَاہُ فَلْیَطْلُبْہُ بِعَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَیْرِ وَافی ۔ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِکَ تَرَکَہُ وَتَبِعَہُ قَالَ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ قُلْتَ قَبْلُ : مَنْ طَلَبَ أَخَاہُ فَلْیَطْلُبْہُ بِعَفَافٍ وَافٍ أَوْ غَیْرِ وَافٍ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الْعَفَافُ؟ قَالَ : غَیْرَ شَاتِمِہِ وَلاَ مُتَشَدِّدٍ عَلَیْہِ وَلاَ مُتَفَحِّشٍ عَلَیْہِ وَلاَ مُؤْذِیہِ ۔ قَالَ وَافٍ أَوْ غَیْرِ وَافٍ قَالَ : مُسْتَوْفٍ حَقَّہُ أَوْ تَارِکٍ بَعْضَہُ ۔
(١١٢٨٨) حضرت کعب بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک آدمی کو پکڑ کر بٹھایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے۔ آپ نے نماز پڑھی، پھر اپنا جو کام کرنے آئے تھے وہ کیا۔ ابھی تک میں نے اسے پکڑا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا : اے ابی ! تم نے ابھی تک پکڑا ہوا ہے ؟ جو شخص اپنے بھائی سے قرض واپس کرنے کا مطالبہ کرے تو عفاف کے ساتھ کرے اور وفا کرتے ہوئے یا غیر وفا کرتے ہوئے۔ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے چھوڑ دیا اور آپ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے کچھ دیر پہلے کہا ہے کہ عفاف کے ساتھ اور واف وغیرواف کے ساتھ قرض کا مطالبہ کرے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ میں نے کہا ہے : اے اللہ کے نبی ! عفاف کسے کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے نہ اسے گالی دے ، نہ اس پر سختی کر، نہ فحش گوئی کر اور نہ اسے تکلیف دے۔ میں نے کہا : واف اور غیر واف کا کیا مطلب ہے ؟ پورا حق لے یا کچھ چھوڑ دے۔